زندگی نامہ ، شہید علامہ عارف حسین الحسینی

73534_581790288531121_2059693256_nخاندان کا ایک تعارف

 پشاور سے تقریبا ٢٠٠ کلومیٹر اور سطح سمندر سے تقریبا ٥٠٠٠ فٹ بلندی پر شمال مغربی کرم ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر پاراچنار واقع ہے۔ جو افغانستان کی سرحد اور شیعہ آبادی کے ناطے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔پاراچنار کے مشرق میں پیواڑ واقع ہے۔

پیواڑ وہ گاؤں ہے جس میں ایک غیر معمولی شخصیت سید عارف حسین الحسینی نے ٢٥ نومبر ١٩٤٦ء کو. آنکھ کھولی تھی۔ اس کی گلیوں میں آپ کے بچپن کی صدائیں باقی ہیں۔ اس کے درختوں کے سائے، پہاڑوں کی چوٹیاں، ٹھنڈے اورمیٹھے ندی نالوں کے کنارے ”سید عارف حسین” کے بچپن کی یادوں کے امین ہیں۔ ایک طرف پہاڑوں کی چوٹیوں کے پتھر کے نیچے آپ کے قدموں کے نشان محفوظ ہیں جبکہ دوسری جانب آپ اپنے گھر کے سامنے پتھریلی زمین کی گود میں پر سکون سوئے ہوئے ہیں۔

پارا چنار سے دس کلومیڑ دور پیواڑ پاک افغان سرحد پر سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اس میں تین قبائل غنڈی خیل، علی زئی اور دویر زئی آباد ہیں ۔سید عارف حسین الحسینی کا تعلق دویر زئی قبیلہ سے تھا۔ مشہور صوفی بزرگ سید میر عاقل شاہ صاحب شاہ شرف بوعلی قلندر ابن سید فخر ولی (جو کڑمان گاوں میں دفن ہیں) کی دسویں پشت میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نصب حسین الاصغر ابن امام زین العابدین سے ملتا ہے۔ وہ سترھویں صدی کے اوائل میں تےرہ نامی علاقہ میں آباد ہوئے ۔ (تیرہ کوہاٹ کے نزدیک پہاڑوں میں گھرا ہواایک علاقہ ہے۔ جس میں آج کل قبیلہ بنگش آباد ہے) یہاں تشریف لا کر انہوں نے اسلام کی تبلیغ کا آغازان کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے سید میاں داد شاہ صاحب نے باپ کی جگہ سنبھالی اور اپنے والد کے افکار کو وسعت دے کر تبلیغ اور درس و تدریس کا کام جاری رکھا۔ سید میاں داد شاہ صاحب کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے سید میر انور شاہ صاحب (المعروف میاں بزرگوار) نے اپنے آباو اجداد کے مشن کو مزید آگے بڑھایااور اپنے علاقہ سے نکل کر تبلیغی مشن کو وسعت دی۔ یہ صاحب فیض و کمال صوفی بزرگ تھے۔ انہیں فیض و کمال مودت حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے ملا تھا۔ خداوند کریم نے انہیں خلوص و محبت کی دولت سے مالامال فرمایا تھا اور ان کے لہجے کی شیرینی میں جادو کا سااثر تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاںکے لوگ گروہ در گروہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔

سید میر انور شاہ صاحب کے خاندان میں ایک درجن سے زائد خدا رسیدہ بزرگ پیدا ہوئے ۔ اسی خاندان نے علاقہ میں عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی بنیاد رکھی اسے وسعت دی تو تھوڑے ہی عرصہ میں عزاداران امام حسین اور پرستاران اسلام کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ گلشن اسلام کی بہار اور عزادارن حسینی ؑکے پرُ درد نوحے وقت کے استعمار کی آنکھ میںکانٹا بن کر چھبنے لگے۔ دشمنان اسلام کی محفلوں میں سازشوں نے جنم لیااور یوں سید میر انور شاہ صاحب کے کلایہ (مسکن) کو تباہ کرنے کی سازش تیار کر لی گئی۔چنانچہ پے در پے حملے کر کے دشمنوں نے انہیں کبھی سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ یہ کشمکش جاری تھی ١٨٧٥ ء میں دو درجن سے زائد قبائل نے افغانیوں کی مدد سے کلایہ کو چاروں جانب سے گھیر ے میں لے کر زبردست حملہ کیا جس کے نتیجے میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا لیکن دشمن کے تمام تر مظالم کے باوجود راہ حق میں ا س خاندان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی اورنہ ہی مصائب و آلام حائل ہو کر منزلوں سے اُن کا رُخ موڑ سکے۔ کچھ عرصہ بعد سید میر انور شاہ صاحب نے دوبارہ کلایہ کو آباد کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

دشمنوں نے آپ کے گھر پر حملے جاری رکھے۔ آخر کار ١٨٩٠ء میں ایک گھمسان کا رن پڑا گاؤں ”کلایہ” کو تباہ و برباد کر دیا گیا لیکن میر انور شاہ صاحب اپنے معتقدین کے دائرہ میں محفوظ رہے۔
جنگ کی اسی کشمکش کے دوران سید میر انور شاہ صاحب کا انتقال ہو گیا اور آپ کی جگہ آپ کا فرزند قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین میر مدد شاہ نے سنبھال لی۔ سید میر انور شاہ صاحب کے انتقال کے بعد کچھ عرصہ امن رہا۔ مگر ١٩٢٧ء میں ان چنگاریوں نے پھر شعلوں کی شکل اختیار کر لی اور ایک بار پھر دشمنوں نے سید میر انور شاہ صاحب کا کلایہ مسمار کر دیا اور گھروں کو آگ لگا دی۔
گو سید میر انور شاہ صاحب کا انتقال قضائے الٰہی سے ہوا تھا مگر متعصب اور جنونی دشمنوں نے چند سال بعد آپ کے جسد خاکی(جو کہ صحیح سلامت تھا) کو قبر سے نکال کر آپ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ تین ماہ تک کٹے ہوئے سر کی ”تیرہ” کے علاقہ میں تشہیر ہوتی رہی اور یوں سید میر انور شاہ وقت کے کوفہ میں سنت ابن عقیل ادا کرتے رہے۔
تین ماہ تک سر میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی پھر آپ کے اہل خاندان نے سید میر انور شاہ صاحب کا سر حاصل کیا اور آپ کے نواسہ کی قبر میں دفن کر دیا۔
اسی مناسبت سے آپ کو شہید اول بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پشتو زبان کے معروف شاعر بھی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں مستقبل کے بارے میں فرمایا تھا۔
انور شاہ پہ تیغ شہید دی کہ باور کڑے خوش خرم دئی کہ داخخ شی بے کفن
”سید انور شاہ تیغ سے شہید کئے جائیں گے۔ وہ خوش ہیں کہ اگر بے کفن دفن بھی ہو جائیں”۔
آپ نے ایک اور جگہ فرمایا۔
بفہ ذات چہ سایہ نلری کل بور دئے
میر انور سید دی ناست تر تیغ پورتے
”میر انور سید اس ذات کے سائے میں بیٹھے ہیں جس کا کوئی سایہ نہیں ہے یعنی کل نور ہے”۔
قدوۃ السالکین نے اپنے والد بزرگوار کی درخشاں روایات و تبلیغات کو زندہ رکھا اور انہوں نے سکونت ”تیرہ” سے ”پیواڑ” منتقل کر لی۔ اس کے باوجود تیراہ پر پے در پے حملہ ہوتے رہے۔١٩٢٧ء کو تیراہ پر ایک بار پھر اجتماعی حملہ ہوا تو میر مدد شاہ دوبار ہ تیراہ تشریف لے گئے ۔ دشمن یہ چاہتے تھے کہ تیرہ سے ان بزرگان کی قبروں کو کھود کر ویسا ہی سلوک کیا جائے جیسا کہ سید میر انور شاہ صاحب کے ساتھ کیا گیا مگر وقت کی نزاکت اور دشمن کی سازشوں کا جائزہ لیتے ہوئے سید مدد حسین شاہ صاحب کو نہ صرف تیراہ کی آبادی کا دفاع کرنا پڑا ۔ بلکہ اپنے آباو اجداد کی قبروں کی حفاظت بھی کرنا پڑی۔ ١٩٢٧ء میں ایک گھمسان کی جنگ میں اپنے بزرگان کی قبروں کی حفاظت کرتے ہوئے آپ بھی شہید ہوگئے اورآپ کے ساتھ سید شاہ ابوالحسن میاں اور سید ابن علی میاں بھی شہادت سے ہمکنار ہوئے۔سید مدد حسین شاہ صاحب کے بعد ان کے بیٹے سیدحسن شاہ اور اُن کے بعد اُن کے فرزند سید الاجل میر ابراہیم میاں (سید عارف حسین الحسینی کے سگے پردادا) نے تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند سید میر جعفر میاں نے بزرگان کے مشن کو مزید آگے بڑھایا مگر انہیں بھی دشمنان اسلام نے چین سے نہ بیٹھنے دیا اور ان پر پہ در پہ حملے کئے۔ آخر ١٩٦٢ ء میں ان کی شہادت ہوئی جس کے بعد آپ کے بیٹے سید فضل حسین شاہ صاحب نے آپ کے مشن کی ذمہ داری اپنے سر لی۔
سید فضل حسین شاہ صاحب کی شادی اپنے چچا سید میر گوہر حسین جان کی بیٹی سے ہوئی ۔ خدا نے انہیں دو فرزند اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔ بڑے فرزند کا اسم مبارک سید عارف حسین الحسینی اور چھوٹے کا نام سید عاقل حسین الحسینی رکھا گیا۔ چونکہ آپ کا سلسلہ نسب حسین الاصغر ابن امام زین العابدین سے ملتا ہے اس لئے آپ کا خاندان ”الحسینی” معروف ہے۔
سید فضل حسین شاہ صاحب ١٣ نومبر ١٩٨٣ء کو بروز جمعہ اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تو ان کے فرزند جلیل علامہ سید عارف حسین الحینی نے اپنے آباؤا جداد کی تبلیغ کو زندہ رکھا۔ یہاں تک کہ ١٠ فروری ١٩٨٤ کو ملت پاکستان کی قیادت سنبھال کر تبلیغ اسلام کو مزید وسعت بخشی اور یوں دو صدیوں بعد اس خاندان کی محنت کا ثمر سید عارف حسین الحسینی کی صورت میں پوری دنیا میں اس قدر مہکا کہ پاکستان کی فضائیں شہداء کربلا کے خون کی خوشبو سے معطر ہو گئیں۔

آغوش مادر سے صحن مکتب تک

٢٥ نومبر ١٩٤٦ء کے روز اذان صبح کے وقت لا الہ الا اللہ کا حقیقی عارف ماں کی گود میں وارد ہوا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے سید فضل حسین شاہ صاحب کو ایک عظیم فرزند سے نوازا تھا۔ نومولود بچے کو والد بزرگوار کی گود میں لایا گیا۔ انہوں نے بسم اللہ پڑ ھ کر بچے کو اٹھا یا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔ گویا بچے کو پہلا درس اللہ اکبر کا دیا گیا جو بعد میں اُن کے مزاج اور فطرت کا حصہ بن گیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آپ عمر بھر اللہ اکبر کے درس پر قائم رہے اور سپر طاقت ہے خدا لا الہ الا اللہ کا درس دیتے رہے۔ عارف فرزند کے عارف باپ نے بیٹے کو ہتھلیوں پر اٹھایا تو ان کی نظر بچے کی کشادہ پیشانی پر جم گی انہوں نے پیشانی پر کئی مرتبہ ہاتھ پھیرا اور الحمد اللہ پڑھا۔ یہ بچہ باپ کی ہتھلیوںسے آغوش مادر میں منتقل ہوا تو ماں نے خاک کربلا کی ایک چٹکی بچے کو گھٹی میں دی۔ گویا اس بچے کے خون میںسب سے پہلے تحلیل ہونے والی خوارک خاک کربلا تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے زندگی میں بار بار فرمایا ”شہادت ہماری میراث ہے جوہماری ماؤںنے ہمیں اپنے دودھ میں پلائی ہے”۔
چند روز بعد بچے کے نام کامسئلہ پیش آیا تو بزرگان نے اپنے عرفان اور بچے کی پیشانی کی بدولت اس کانام عارف حسین رکھا۔ جو بعد میں عارف حسین الحینی کے نام سے معروف ہوا۔ یہ بچہ وقت کے ساتھ پہلو ئے مادر میں پلتا رہا۔بقول آپ کی والدہ معظمہ کے کہ ”اس بچے کی نظریں جس مقام پر بھی ٹک جاتےں ، کئی کئی لمحے ٹکی رہتیں اور کبھی کبھار انہیں دیکھ کر میرا دل بھی بھرجاتا تھا”۔
سید عارف حسین الحینی چار پانچ برس کے ہوئے تو والدین نے بچے کی تعلیم کی فکر ہوئی اور انہیں پیواڑ کے پرائمری سکول میں داخل کرا دیا گیا اور ساتھ ہی گھر میں قرآن مجید کے ابتدائی درس کا اہتمام بھی کیا گیا۔ آپ چوتھی جماعت تک پیواڑ کے پرائمری سکول میںزیر تعلیم رہے اور بعد ازاں مزید تعلیم حاصل کرنے پاراچنار کے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور میڑک یہیں سے پاس کیا اوراِس دوران آپ نے اپنی بڑی ہمشیرہ کے ہاں موضع ”ملانہ” میں قیام کیا۔
آپ نے قرآن مجید کی تعلیم بھی اِسی گاؤں میں مکمل کی ۔ آپ بچپن ہی سے اپنے ماموں سید غلام عباس شاہ مرحوم المعروف سید جانیاں شاہ سے بے حد مانوس تھے اور سید جانیاں شاہ بھی اکثر سید عارف حسین الحسینی کو پہلو میں لے کر سوتے تھے ۔ ایک دفعہ بہن نے اپنے بھائی عارف حسین سے شکوہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں بیٹھتے بلکہ بزرگوں کے ساتھ سارا وقت گزارتے ہیں تو آپ نے فرمایا”بزرگوں کے قصے اور کارنامے سن کر مزہ آتا ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی اپنے بزرگوں کی طرح کام کروں”۔
سید عارف حسین الحسینی بچپن ہی سے نماز کے پابند تھے۔ وہ اپنے ماموں کے ساتھ ایک ہی کمرہ میں سوتے ۔انہیں اپنے آباو اجداد کے قصے سنانے پر مجبور کرتے رہتے اور اپنے ماموں کے ساتھ رات کو نماز بھی ادا کرتے۔ آپ پر ماموں کی صحبت کا یہ اثر ہوا کہ بچپن ہی میں شادیوں وغیرہ میں ڈھول ، روایتی ناچ اور گانوں کی محفلوں سے سخت نفرت کرنے لگے۔ آپ سکول کے بعداپنے چچا زاد بھائیوں سے کھیل کود میں کچھ وقت گزارتے اس کے بعد گھر کی بکریاں پہاڑوںکی چوٹیوں پر لے جاتے۔ مگر خود کتاب لے کر بکریوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ سبق بھی یاد کرتے رہتے۔ ہمیشہ مغرب کی اذان سے قبل واپس آتے، وضو کرتے، ماموں کے ساتھ نماز پڑھتے، کھانا کھاتے اور پھر سبق پڑھنے میں مصروف ہوجاتے۔
اوائل عمر ہی سے آپ ہشاش بشاش اور ہنس مکھ تھے۔سید عارف حسین الحسینی اپنے گھرانے میں ایسے دلفریب مزاح کرتے تھے کہ تمام گھر والوں کو بے اختیار ہنسی آجاتی تھی بعض اوقات تمام گھر والے کسی بات پر ہنس رہے ہوتے تو باہر سے آنے والا فرد بے اختیار کہہ دیتا کہ ــ”لگتا ہے عارف حسین نے پھر کوئی مزاح کیا ہے ”۔
بچپن میں ”آملوک”آپ کا مرغوب پھل تھا۔ ایک دفعہ آملوک کے درخت سے گرے تو آپ کا دایاں بازو ٹوٹ گیا۔ بازو ٹھیک ہوا تو پھر اسی درخت پر چڑھ گئے۔ چھوٹے چچا ز اد بھائی نے کہا کہ پہلے تو آپ اسی سے گر کر زخمی ہوئے تھے اب پھر چڑھ رہے ہیں تو آپ نے جواب دیا”آج میں اِس پر اس لئے نہیں چڑھا کہ آملوک کھاؤں۔ آج اس لئے چڑھ رہا ہوں کہ یہ درخت یہ نہ سمجھے کہ عارف حسین ڈر گیا ہے ”۔
چونکہ ملانہ گاؤں { XE “گاؤں ” }پاراچنار سے دو تین کلومیٹر دور ہے اس لئے روزانہ کی تکلیف اور سردیوںکی بدولت آپ پاراچنار سکول کے ہاسٹل میں رہنے لگے اور کمرہ نمبر ٥ آپ کو الاٹ ہوا۔ آپ بچپن ہی سے بے حد ملنسار، مؤدب، پابندِصوم و صلاۃ، کم گو اور مطالعہ کے شوقین تھے۔ ان صفات کی بناء پر ہاسٹل کے تمام طلباء آپ کی بے حد عزت کرتے تھے۔
زمانہ طالب علمی میں ہی آپ کے تقویٰ، سچائی اورمؤدب پن نے اساتذہ کو بے حد متاثر کیا۔ا سکول یا جماعت میں طالب علموں کے درمیان اگر کوئی جھگڑا ہو جاتا تو اساتذہ آپ کی گواہی کے بعد آخری فیصلہ دے دیتے۔اساتذہ کے سامنے سر جھکاکر بیٹھنااور نظریں نیچی کر کے چلنا آپ کا شیوہ تھا۔ یہاں تک کہ آپ پورے زمانہ طالب علمی میں نہ کسی سے اُلجھے اور نہ کسی سے ناراض ہوئے۔
آپ نے ا سکول میں جن اساتذہ سے فیض حاصل کیا ان میں نجات حسین علی زئی، ناصر حسین زڑان، علی زمان زڑان، ابراہیم صاحب پاراچنار، دلدار حسین شلوزان سکول کے ہیڈ ماسٹر عثمان شاہ آف ٹل اور نائب ہیڈ ماسٹر عبداللہ جان آف زڑان سر فہرست ہیں جو آج بھی آپ کے زمانہ طالب علمی اور کردار کے معترف ہیں۔
١٩٦٢ء میں آپ کے دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد آپ کے والدین کا خیال تھا کہ آپ کو کالج میں داخل کروایا جائے۔ لیکن آپ اپنی طبیعت میں روحانیت کی بنا ء پر دینی تعلیم کی طرف مائل رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب پاراچنار میں کچھ عرصہ قبل حاجی غلام جعفر صاحب آف لقمان خیل نے ”مدرسہ جعفریہ” کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ مدرسہ آغازمیں تین کمروں پر مشتمل تھا جس میں چند طلباء نے داخلہ لیا تھا۔ چنانچہ آپ بھی دسویں جماعت کے بعد اسی مدرسہ جعفریہ میںداخل ہوئے اور عظیم منزل کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔ دینی مدرسہ اور علماء کے ماحول نے سید عارف حسین الحسینی کی طبیعت پر گہرے اثر ات چھوڑے اور آپ کی فطرت میں مزید پختگی دن بدن آنے لگی ۔ اب آپ شباب کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔ مگر شباب میں یہ عالم تھا کہ آپ مدرسہ میں باقاعدگی سے نماز تہجد اور تعقیبات ادا کرتے تھے۔
مدرسہ کے پرنسپل حاجی غلام جعفر جو ایک متقی اور برگزیدہ انسان تھے نے اپنے احباب سے اظہار کیا تھاکہ انہوںنے اکثر سید عارف حسین الحسینی کو رات کے پچھلے پہر یاد خدا میں مصروف پایا ہے۔ آپ کے تقویٰ سے مدرسہ کے تمام اساتذہ بے حد متاثر تھے۔ آپ کی ریاضت ، اخلاق اور حصول علم کے شوق کا ادراک کرتے ہوئے آپ کے دور اندیش اساتذہ نے فرمایا تھا کہ یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ کرّم ایجنسی میں سید عارف حسین الحسینی سے بڑا عالم دین کوئی نہیں ہوگا اور ایک روز یہ شخص کرم ایجنسی کی تقدیر بدل ڈالے گا۔
وقت گزرتا رہا، حالات بدلتے رہے، تقاضے بڑھتے رہے، سید عارف حسین الحسینی بھی اپنی منزل کے قریب ہوتے گئے۔ آپ نے حالات کا خوب مشاہدہ کیا اور کرم ایجنسی کی تقدیر بدلنے کا عزم اپنے سینے میں امانت رکھ لیا۔
زمانہ طالب علمی میںآپ کو مناظرے کرنے کا بے حد شوق تھا۔اس لئے آپ دیگر کتب کے علاوہ مناظرانہ کتب کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے تھے۔ اگر کوئی مناظر عالم دین پاراچنار آجاتا تو آپ اس کے ساتھ کافی دیر تک بیٹھے رہتے اور فن مناظرہ کے بار ے میں استفسار کرتے۔

نجف میں امام خمینی کے ساتھ وابستگی

جس زمانہ میں آپ نجف اشرف میں تعلیمی مراحل تیزی سے طے کر رہے تھے ان ایام میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت اما م خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی نجف میں جلا وطنی کے دن کاٹ رہے تھے۔ آپ مدرسہ آیت اللہ بروجردی میں نماز مغربین کی امامت فرماتے اور چند لوگ آپ کی اقتداء میں نماز بجا لاتے تھے۔ پاکستانی طلباء میں سید عارف حسین الحسینی واحد طالب علم تھے جو باقاعدگی سے امام خمینی کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے۔ نماز کے بعد امام خمینی کے دروس کو انتہائی انہماک سے سنتے اور ذہن کی لوح پر نقش کر لیتے۔ آپ واپس اپنے ہاسٹل لوٹتے تو ہاں پر موجود تمام احباب کو امام خمینی کے درس کا خلاصہ پیش کرتے اورانہیں امام خمینی کے دروس میں شرکت کی اپیل کرتے۔

یہ وہ دور تھا جب امام خمینی پر سامراج کی نظریں لگی ہوئی تھیں اور لمحہ بہ لمحہ آ پ کی کاروائیاں جاسوس ادارے نوٹ کررہے تھے۔ حکومت عراق اور حکومت ایران دونوں کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ امام خمینی کے پیروکاروں میں اضافہ نہ ہونے پائے اور آپ کے افکار کو پھیلنے کا موقع نہ ملے۔ لہذا حکومت عراق آپ اور آپ کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے والوںپر کڑی نظررکھتی تھی اور اسی ضمن میں آپ کے رفقاء کوآپ سے جدا کرنے کا ہر طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ علماء اور اکثر طلباء امام خمینی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے گریز کرتے تھے ۔ مگر سید عارف حسین الحسینی کے عشق کی یہ حد تھی کہ آپ امام خمینی کی جماعت کی پہلی صف میں بیٹھتے ، ذہن کے دریچوں کو کھول کر امام خمینی کا ہر فرمان سنتے اور امام خمینی کے چہرے پر نظریں جما کر مہتاب انقلاب کی شعاعوں سے آنکھوں کومنور اور دل کو تازگی بخشتے۔ جب کبھی وقت اور حالات کی نزاکتوں میں شدت آتی تو آپ اپنے رفقاء سے التجا کرتے کہ امام خمینی کی درازی عمر کی دعا کریں اور خود روضہ حضرت علی علیہ السلام پر حاضری دیتے اور گڑ گڑا کر امام خمینی کے لئے دعائیں مانگتے۔
ایک بار کسی دوست نے آپ سے کہا کہ ہم پاکستانی طلباء یہاں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں لہذا ہمیں ایران عراق اور یہاں کی سیاسی متنازعہ شخصیات سے کوئی سروکار نہیںہوناچاہیے۔ ایک تو یہ غیر ملکی معاملات ہیں اور دوسرا یہاں کے امور میں مداخلت سے ہمارے لئے مشکلات پید اہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ سنتے ہی آپ کاچہرہ جلال سے سرخ ہو گیا اور دیگر احباب کے سامنے اسی دوست سے فرمایا” اے دوست آپ کا مذہبِ شیعہ پاکستان سے تخلیق نہیں ہوا۔ یہ چشمہ ہدایت بھی عراق سے رواں ہوا تھا اور نواسہ رسول پاکستانی نہیں تھے۔ ہم حق کے متلاشی اور ہر فرزند زہراء ؑ کی صدائے ھل من ناصر پر لبیک کہنے والے ہیں لہذا ہم حق کی خاطر اٹھنے والی ہر صدا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے کیوں نہ اٹھے اس کا ساتھ دینا اور حق کے راستے میں صعوبتیں برداشت کرنا بھی ہماری ذمہ دارےوں میںشامل ہے۔ دعا کرو کہ فرزند زہراء خمینی دشمنوں کی نظر بد سے محفوظ رہیں اور کوشش کرو کہ آپ کے افکار کاچرچا عام ہو۔ یاد رکھو کہ اگر خدا نخواستہ اس رہبر کو کچھ ہوگیا تو پھر کئی برس تک کوئی عالم دین صدائے حق بلند نہیں کرسکے گا اور اگر بفضل خدا انہیں کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر اسلام سرخرو اور علماء سربلند ہوں گے لہذا توبہ کرو اور اپنے دل سے ان وسوسوں کو نکال دو”۔
آپ کے جذبات اور خلوص سے تمام طلباء بے حد متاثر ہوئے اور ان میں سے بعض امام خمینی کی اقتداء میں نماز مغربین میںشرکت کرنے لگے۔ کربلا کی زمین پر سید الشہداء کے مجاہد فرزند امام خمینی کی محبت بھی پروان چڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ احباب کی محفل کے درمیان امام خمینی کا ایک جملہ نقل فرماتے ہی اشکبار ہوگئے کہ آج امام خمینی نے شاہ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ” میرا دل تیرے نیزوں سے چھلنی ہونے کے لئے حاضر ہے لیکن تیرے ظلم و ستم کو تسلیم کرنے کے لئے نہیں”۔
اس وقت جب امام خمینی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی خطرناک ہوا کرتا تھا۔ آپ امام خمینی کے پیچھے ایسے چلتے جیسا ان کے ذاتی محافظ ہوں۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر آپ کے کسی دوست نے بھری محفل میں کہہ دیا تھا کہ سید عارف حسین الحسینی نے انگیٹھی کو سینے سے لگایا ہوا ہے” آپ صرف امام خمینی سے عقیدت تک محدود نہ رہے بلکہ امام خمینی سے عقیدت رکھنے والے افراد بھی آپ کی محبوب شخصیات بن گئے جن میں اقا علی نائینی، آقا سید رضا برقعی، آقا دعائی اور آقا سید حسین یزدی سرفہرست ہیں۔
زمانہ طالب علمی میں آپ اپنے استاد آیت اللہ شہید مدنی سے بے حد متاثر تھے کیونکہ شہید مدنی بلند پایہ عالم دین ہونے کے علاوہ امام خمینی کے عاشق بھی تھے۔ آپ مدرسہ دارالحکمت میں آیت اللہ مدنی سے شرح لمعہ پڑھتے تھے اور درس ختم ہونے کے بعد انہی کے ساتھ سیدھا مدرسہ بروجردی جا کر امام خمینی کے پیچھے نماز مغربین ادا کرتے اور نمازظہرین بھی اکثر اوقات مسجد شیخ انصاری میں امام خمینی کی اقتداء میں ادا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔
امام خمینی سے آپ کی عشق کی مثال کچھ یوں بھی سامنے آئی ہے کہ ١٩٧١ء میں جب ایران میں ڈھائی ہزار سالہ جشن شہنشاہی منایا جا رہا تھا تو امام خمینی نے نجف اشرف میں اس کے خلاف تقریر کی۔ یہ شاہ ایران کے آباواجداد کا جشن شہنشاہی تھا جس پر اربوں روپے خرچ کئے گئے تھے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔
اس بار ے میں امام خمینی نے فرمایا تھا کہ ” اے شہنشاہ ایران یہ ملک تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے بلکہ امام زمانہ  کاملک ہے۔ اس کے اربوں روپے تمہارے خاندانی جشن کے لیے نہیں بلکہ غریب و مظلوم عوام کے لئے ہیں” امام خمینی  کی اس پرجوش تقریر کے بعد امام کے طرفدار طلباء اور علماء نے شاہ کو مذمتی ٹیلی گرام بھیجے۔ پاکستانی طلّاب میں صرف سید عارف حسین الحسینی ہی تھے جنہوں نے شاہ کو پاکستانی طلباء کی جانب سے ٹیلی گرام بھیجا تھا۔ جب اس بات کا علم پاکستانی طلباء کو ہوا تو وہ ایک گروپ کی صورت میں نماز مغربین کے بعد صحن مطہر حضرت علی علیہ السلام میںا ۤپ سے ملے اور اعتراض کیا ”آپکو کیا حق پہنچتا ہے کہ آپ تمام پاکستانی طلباء کی طرف سے شاہ کو مذمتی ٹیلی گرام ارسال کریں، ہمارا ان باتوں سے کیا تعلق ہے، ہم پاکستانی ہیں۔ ہم کسی ایرانی شخصیت کی حمایت اور ایرانی حکومت کی مذمت کیوں کریں؟ ہمیں تو ایران کے راستے پاکستان آنا جانا ہوتا ہے، اس طرح حکومت ایران ہمیں تنگ کرے گی”۔
پاکستانی احباب کی یہ باتیں سن کر آپ نے کافی دلائل دئیے مگر وہ بضد رہے۔ جب بات دلائل سے نہ بنی تو پھر متحمل مزاج عارف کے چہرے پر جلال نمودار ہوا اور آپ نے انتہائی سخت الفاظ میں انہیں باز رہنے کی تاکید کی۔ نوجوانی کے عالم میں غصہ پر قابو پانا آ پ کی صفات کا ایک حصہ تھا لیکن امام خمینی یا کسی مقتدر علمی شخصیات کی توہین برداشت کرنا آپ کے لئے مشکل ہوتا تھا۔”
ایک اہم واقعہ جو ١٩٧٣ء میں نجف اشرف کی سرزمین پر پیش آیا وہ یوں تھا کہ حسن بکر کی بعثی عراقی حکومت نے آقا محسن الحکیم کی انقلابی سرگرمیوں سے خائف ہو کر انہیں کوفہ میں نظر بند کر دیا اور ان کی ملاقات پر پابندی عائد کر دی۔ وفد آقا محسن الحکیم سے ملاقات کرنے کوفہ پہنچا جہاں طلباء کے جلوس اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ اس جلوس میں سید عارف حسین الحسینی اور سید شبر حسن آف پاراچنار بھی موجود تھے۔ ان دونوںجوانوں نے پولیس سے خوب ہاتھاپائی کی اور چند پولیس والوں کو زخمی کردیا ۔ اس تصادم میں سیدعارف حسین کی عباء بھی پھٹ گئی۔ پھر آپ مسجد کوفہ پہنچے مگر پولیس نے مسجد میں گھس کر آپ کو گرفتار کر لیا۔
اس زمانہ میں امام خمینی کی حقیقی معرفت بہت کم افراد کو تھی اور بعض اوقات طلباء آپ سے اختلاف بھی کر لیتے تھے مگر سید عارف حسین الحینی کے سامنے کسی کو امام خمینی کی شان کے منافی ایک حرف کہنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ دل کو دل سے راہ ہونے کے مصداق شہےد حسےبی  نے اگر امام خمینی جیسے گوہر یکتا کو اپنی باطنی بصیرت سے کشف کر لیاتھا تو امام خمینی کی روحانیت نے بھی آپ کا انتخاب فرمالیاتھا۔ لہذا جب آپ ١٩٧٣ء میںنجف اشرف سے پاکستان بغرض ترویج انقلاب آنے لگے تو امام خمینی نے آپ کو اپنا وکالت نامہ دیا جو ایران کی سرحد پر دوران تلاشی چھین لیا گیا۔

زمانہ قم المقدسہ ایران

پ ١٩٧٣ء میں پہلی بار نجف اشرف سے ساڑھے چھ سالہ قیام کے بعد پاکستان آئے۔ اسی سال آپ کی اپنے ہی خاندان میں مولانا سید امیر حسین جان لکھنوی کی بھتیجی اور سید یونس جان خطیب عالم شیر کی صاحبزادی سے شادی انجام پائی۔

خداوند کریم نے آپ کو پانچ فرزند اور دو دختر عطافرمائیں۔ جن کے نام یوں ہیں۔سیدمحمد، سید علی، سید حسن ،سیدحسین، سید سجاد، سیدہ فاطمہ، اور سیدہ زینب۔
شادی کے بعد ١٩٧٤ ء میں جب آپ نے نجف اشرف دوبارہ جانا چاہا تو آپ کے داخلہ پرپابندی عائد کر دی گئی کیونکہ عراقی حکومت آپ کی سرگرمیوں ، قائدانہ صلاحیتوں اور امام خمینی سے عقیدت سے آشنا ہوچکی تھی۔ علمی تشنگی اور امام خمینی کے ہجر نے آپ کو پاکستان میں چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ آپ ٨ ماہ بعد قم تشریف لے گئے جہاں آپ نے آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ تبریزی اور آیۃ اللہ حرم پناہی سے تاریخ ، اصول، فلسفہ، فقہ اور علم کلام کا درس لیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایران میں امام خمینی کی تحریک خوب پروان چڑھ رہی تھی۔ایران کے ملعون شاہ کی جانب سے علماء کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ زوروں پر تھا۔ مدارس دینیہ کاتقدس پامال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی تھی ، عوام اور طلباء کے مظاہرے شباب پر تھے۔ ایسے میں سید عارف حسین الحسینی بڑے بڑے مظاہروں میں خود شرکت کرتے، اپنے ساتھیوں کو شرکت کی ترغیب دیتے اور امام خمینی کے پیغامات کو دیگر احباب تک پہنچانے میں سرگرم عمل رہتے تھے۔
چونکہ اسلامی انقلاب کی تحریک کا اصل مرکز حوزہ علمیہ قم تھا اس لئے قائدین انقلاب کی سرگرمیوں کا محور ہونے کے ناطے یہ حوزہ شاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتارہا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای، حجۃ الاسلام واعظ طبسی، حجتہ الاسلام شہید ہاشمی نژاد اور دیگر اہم شخصیات امام خمینی کی تحریک کے روح رواں تھیں۔ امام خمینی سے عشق کی بدولت سید عار ف حسین الحسینی کو امام کے جانثاروں سے عقیدت ہو گئی۔ آپ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خطبات میں جوش و جذبہ سے شرکت فرماتے اور انکے خطبات کے اقتباسات اپنے دیگر دوستوں تک پہنچاتے ۔ آپ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جذبہ اور ان کی امام خمینی سے والہانہ محبت کو دیکھ کر اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ” اگریہ عبد ذی وقار (آیت اللہ خامنہ ای)زندہ رہے تو اپنی صلاحیتوں کا دنیا سے لوہا منوائیں گے”۔
ایران کی بدنام زمانہ جاسوسی تنظیم ” ساواک” انقلاب کے لئے سرگرداں افراد کے لمحہ بہ لمحہ جاسوسی کررہی تھی بالخصوص یہ تنظیم غیر ملکی طلباء جو ایرانیوں کے شانہ بشانہ محرک تھے پر کڑی نظر رکھے ہوئی تھی۔ چونکہ پاکستانی طلباء میں سید عارف حسین الحینی تحریک امام خمینی کے سرگرم رکن تھے۔ اس لئے ”ساواک” نے آپ کوگرفتار کر کے وہاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد کردیا۔ آپ سے چند روز تفتیش ہوتی رہی۔ آپ کو صعوبتوں کا خوف دلایا گیا، ایران بدر کرنے کی دھمکیاں دی گئیں مگر ان کی کوشش بھی آپ کو متزلزل نہ کر سکی۔ آخر کار انہوں نے آ پ سے ایک حلف نامہ پر دستخط کرانے کی کوشش کی جس پر تحریر تھا کہ آپ
١۔ قم کے قیام کے دوران کسی مظاہرے اور جلسے میںشرکت نہیںکریں گے۔
٢۔ کسی سطح پر ہونے والے جلسے پر تقریر نہیںکریں گے۔
٣۔ شاہ ایران کے خلاف کسی مقام پر نشر واشاعت نہیں کریں گے۔
٤۔ ایران میں انقلاب کی تحریک کے کسی رہنما سے ملاقات نہیں کریں گے۔
٥ ۔ حکومت ایران کے خلاف کسی بھی سرگرمی میں شریک نہیںہوںگے۔
جونہی آپ کی نظر ان شرائط پر پڑی تو نہ صرف آپ نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا بلکہ بڑی جرات سے جواب دیا” میںاس قسم کی شرط کو قبول نہیںکرتا اور نہ ہی میں نے اپنے آباؤاجداد سے مشروط زندگی کا درس پڑھا ہے”۔
قم میں بھی انقلابی جلسوں کے علاوہ عزاداری کے جلوسوں میں شرکت کرنا آپ کا پسندیدہ فعل تھا۔ آپ ان جلوسوںمیںنوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے۔ نجف و قم میںمقامات مقدسہ کی زیارتیں اور عزاداری کے عظیم جلوسوںسے آپ اس قدرمتاثر تھے کہ زندگی بھر احباب کی محفل میںانکا تذکرہ فرماتے رہے۔ آپ کے نزدیک نجف و قم کے مزارات کی زیارت ، وہاںمانگی گئی دعائیں اور عزاداری کے پروگرامات میںشرکت زندگی کا عظیم سرمایہ تھے۔
حج بیت اللہ آپ کی تسکین کا ذریعہ تھاآپ ١٩٧٥ء میں پہلی بار قم سے حج کی عظیم سعادت حاصل کرنے کے لئے گئے۔ دوران حج آپ کا تقویٰ ، عبادت اور کم گوئی ایسے افعال تھے جو ہر اہل نظر کو متاثر کرگئے۔ اس موقع پر پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء اور صاحب تقویٰ افراد آپ کے انداز حج سے بے حد متاثر ہوئے اور کافی افراد نے مناسک حج بھی آپ کے ساتھ ادا کئے ۔دعاؤں کے مجموعہ کی بہترین کتاب”مفاتیح الجنان” ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ آپ مختلف مقامات پر وہاں کی مناسبت سے دعائیں پڑھتے اور گریہ کرتے ۔ ایک مرتبہ آپ اس کتاب کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے تو سعودیہ پولیس نے کتاب اندر لے جانے سے منع کیا۔ آپ نے دلائل دیئے مگر انہوں نے واضح کہا کہ اس کتاب میںچند جملے ایسے ہیں جن سے سعودیہ مسلک کو اختلاف ہے۔ غالباً یہ جملے حضرت فاطمہ الزہراء ؑ اور مزارات اہل بیت کی مظلومیت کے بارے میں تھے۔
آپ حج کے عرصہ میں بہت کم سوتے ، زیارات اور قرآن مجید کی بکثرت تلاوت فرماتے، رات کو اٹھ کر خانہ خدا اور روضہ رسول ؐ کا کثرت سے طواف کرتے اور مسجد نبوی و دیگر مساجد میں کثرت سے نمازیں اور نوافل ادا کرتے تھے ۔ یاد خدا میں آپ کی آنکھیںمسلسل اشکبار رہتی تھیں ۔ آپ اس دوران کھانا بھی انتہائی کم کھاتے تا کہ عبادت میں خلل نہ آسکے۔ آپ سعودیہ میں گوشت کھانے سے مکمل پرہیز کرتے ایسے میں آپ خشک میوہ جات، انڈوں اور خشک روٹی پر گزارہ کرتے ۔
ایک مرتبہ آپ منیٰ آرہے تھے کہ ایک مصری آپ کا ہمسفر ہو گیا اور اس نے شیعیت کے خلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کی۔ آپ نے نہایت حوصلہ سے عربی میں اسے مذہب شیعہ کا تعارف کرایا اور وہ بے حد متاثر ہوا۔ یہ شخص آپ کو منیٰ میں خیمہ تک چھوڑنے آیا اور یہ کہہ کر کہ ” وہ مزید تحقیق کےلئے حاضر ہو گا” رخصت طلب کی۔
آپ دوسری بار ١٩٧٧ء میںقم سے حج پر تشریف لے گئے جہاں آپ کی ملاقات پاراچنار کے قریبی رفقاء آقا سید محمد جواد ہادی ، حاجی کما ل حسین، سید حسین سے ہوئی۔ آپ نے اس گروپ کی رہنمائی کی۔ احباب کے بقول آپ کے حج کا انداز بھی منفرد ہوتا تھا۔ آپ ساری ساری رات جاگتے، زیارات و قرآن مجید بکثرت پڑھتے۔ خصوصاً عرفات کے دن ، دعائے امام حسین  ایسے پڑھتے جیسے امام حسین  روبرو آپ کا خطبہ سن رہے ہوں۔ زیارت امام حسین  پر بے حد گریہ کرتے ، اعمال حج کے دوران دعاؤ ں میں اپنی شہادت کی دعا اس انداز سے مانگتے جیسے خداوند کریم نے پوچھ لیا ہو عارف کیا چاہتے ہو؟ آپ رات کو مجالس پڑھتے اور احباب کو بار بار نصیحت فرماتے کہ آپ لوگ خدا کے مہمان ہیںلہذا میزبان کی عظمت کو مدنظر رکھ کر اپنے اطوار میںمزید بہتری پیدا کریں۔ ایک دفعہ حاجی کمال حسین آپ کے اعمال کی دعائیں ریکارڈ کررہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ ”ریکارڈنگ وغیرہ چھوڑےں اس سے آپ کے اعمال میںخلل پڑے گا آپ اعمال کریںواجبات کو ترجیح دیں”
ایک رات جدہ میں آپ احباب کے ہمراہ دعائے کمیل پڑھ رہے تھے کہ چند مصری آگئے انہوں نے آپ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہیں ؟ آپ نے بتایا کہ ”ہم پاکستانی ہیں ” انہوں نے تعجب سے پوچھا پاکستان میں شیعہ رہتے ہیں ؟ انکے اس استفسا ر پر آپ نے شیعیت کا بھر پور تعارف کروایا اور انہیںبتایا کہ پاکستان میں ٣ کروڑ شیعہ آباد ہیں جو پاکستان کی کل آبادی کا چوتھا حصہ ہیں۔
آپ عرصہ حج کے دوران زیادہ وقت عبادات میں صرف کرتے، معمولی سا آرام کرنے کےلئے معمولی سی چٹائی پر نیچے سو جاتے اور اپنی عبااوپر لے لیتے۔ یوں تو زیارات کے دوران آپ اشکبار ہی رہتے مگر شعب ابی طالب اور جنت البقےع میں اس قدر گریہ کرتے کہ آپ کی حالت غیر ہوجاتی اور ا س دوران زیارات اور دعاؤں کی کتا ب زمین پر رکھتے اور بے اختیار ماتم کرتے۔
آپ اکثر فرمایا کرتے تھے ”دستور زمانہ ہے کہ ہرملک اپنے تاریخی مقامات کو چن چن کر محفوظ کرتا ہے جبکہ سعودی فرمانرواؤں نے ایسے مقامات (مزارات اہل بیتؑ و اصحابؓ) کو مسمار کردیا ہے” چونکہ آپ حقیقی عبد کریم اور رسول اکرمؐکے پروانے تھے اس لئے اپنے احباب کو مجالس اور دروس میں حقیقت توحید اورعظمت رسولؐ سے آشنا کرتے ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی مجالس میںشعیہ سنی برادران کا ہجوم رہتا تھا۔ آپ حج کی ادائیگی کے بعد واپس قم چلے جاتے اور اپنی تعلیم میںمصروف ہوجاتے تھے۔
قم میں قیام کے دوران جہاں آپ امام خمینی کی تحریک کے سپاہی تھے وہاںآپ پاکستانی امور پر بھی گہری نظر رکھتے۔ جب بھی کوئی پاکستانی طالب علم قم آتا تو آپ اس سے پاکستان کے مکمل حالات اور بالخصوص ملت جعفریہ کی صورتحال کا ضرور استفسار کرتے ۔
آپ قم میںرہتے ہوئے بھی کرّم ایجنسی کے حالات کے بارے میں کافی مضطرب رہتے۔ ان ایام میں جن احباب سے بھی آپ کا سلسلہ خط کتابت تھا آپ انہیںہر خط میں کرّم ایجنسی کے حالات کے بارے میں پوچھتے اور مکمل تفصیلات طلب کرتے تھے۔ اگرملت جعفریہ پاکستان کسی سانحہ کا شکار ہوجاتی تو آپ مسلسل کئی روز تک رنجیدہ رہتے۔ کبھی پاکستان میںفرقہ واریت کی مسموم ہوا کا کوئی جھونکا چلتا تو آپ بے حد غمزدہ ہوجاتے اور مقامات مقدسہ پر مسلمانوں کے اتحاد اور پاکستان کے استحکام کی دعائیں مانگتے تھے۔
آپ امام خمینی کی تحریک کا رخ دیکھ کر اس خواہش کا اظہار فرمایا کرتے تھے کہ انشا اللہ پاکستان میں بھی کوئی خمینی اٹھے گا جو وہاں مسلمان عوام کی تقدیر بدل ڈالے گا۔