تنظیمی تعارف

اقوام و ملل ، مذاہب و مسالک، علماء و دانشور، اہل فنون و ہنر کا واقعی حسن،  سچی حیات، ناقابل شکست طاقت اورصحیح شناخت کا راز انکے آپسی انسجام و انصرام ، نظم و نسق، اجتماع و تشکل، تربیت و تنظیم اور خلوص واخلاص میں پوشیدہ ہوتا ہے.

 تنظیم یعنی بکھرے ہوئے لوگوں کا حسین گلدستہ جو خود اپنے آپ میں اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ جہاں رکھ دیاجائےوہاں کا حُسن دوبالا ہو جائے۔ قابل سلام و احترام ہیں وہ لوگ جو بہترین اور برترین مقاصد کے لئے منظم ہوجاتے ہیں اور تنظیم کو خلوص نیت اوراخلاص کے حصار میں رکھتے ہیں۔ایک ملک سے دوسرے ملک میں حجرت کا ابتدائی نتیجہ بکھراؤ اور تنہائی کی اذیت نیز غیر منطقی تعلقات اور روابط  کا آخری نتیجہ اپنی شناخت سے ہاتھ دھو لینا ہوتا ہے۔ پاک و ہند  کی سرزمین سے یورپ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کا سلسلہ نصف صدی سے پہلے شروع ہوا اور جب تعداد بڑھی تو مربوط و منظم رہنے کیلئے  مساجد وحُسینیات کی بنائیں ڈالیں اور نسل آہندہ کی تعلیم و تربیت کیلئےحسینیات ومساجد کی جان و روحاور قوم کی مذہبی وملی شناخت کو بچانے  رکھنے کے بہترین  وسائل علما ؑ بھی آئے۔ یورپ میں مقیم عرب، ایرانی ، افغانی ، افریقی مسلمانوں کے بالمقابل پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے شیعہ مسلمانوں کےحسینیات و مساجد سب سے زیادہ ہیں اور اکثر اداروں میں علماء مصروفِ خدمات ہیں لیکن اُن کا اپنا کوئی منظّمہ نہیں تھا ۔

۱۹۹۲ میں علماء  کا پہلا اجتماع لندن میں ہوا اور مجلس علمائے شیعہ کی تشکیل ہوئی۔

مجلس کے پہلے صدر الحاج ملا اصغر صاحب طاب ثراہ مقرر ہوئے

مجلس علمائے شیعہ کے دوسرے صدر الحاج  حجۃ الاسلام مولانا ظفر عباس صاحب قبلہ  منتخب ہوئے اور طویل مدت تک  بحثیت صدر مجلس خدمات انجام دیتے رئے۔ آپ نے مجلس علماء کو وسعت دے کر یورپ تک پہنچایا۔علماء کے ذریعے قوم و ملت اور حسینیات و مساجد باہم مربوط رکھنے کے لئے امامیہ کونسل تشکیل دی۔المجلس مجلہ کا اجرا فرمایا اور مختلف کتابچے شائع کیے۔ نونہالانِ ملت کے لئے کیمپ رکھے۔ شیعہ ٹی وی کی فلاح و بہبودکے لئےسعی و کوشش کی۔

مجلس علماء کے تیسرے صدر حجۃ الاسلام مولانا سیّد امیر حسین نقوی صاحب رہے۔ آپ نے مجلس کے اُمور کوبحسن وخوبی آگے بڑھایا۔

مجلس کے چوتھے اور موجودہ صدر حجۃ الاسلام مولانا سیّد علی رضا رضوی صاحب ہیں۔ مولانا کو پہلی بار  ۲۸ مئی۲۰۱۱ میں مجلس علمائے شیعہ کے ایک خصوصی اجلاس میں علمائے کرام نے متفقہ طور پر دو سال کے لئےصدرمنتخب کیا ۔ مولانا سید علی رضا رضوی کی دو سالہ کار کردگی کی بنا پر مورخہ ۴ مئی ۲۰۱۳ کو علمائے کرام نے  انہیں دوبارہ مجلس کی صدارت کے لئے منتخب کیا۔

اغراض و مقاصد :  دستور کی دفعہ   نمبر ۴ کے مطابق اس تنظیم کے  اغراض و مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ مذہب حقہ اثنا عشری کی مؤثر تبلیغ اور اس کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں اور سازشوں کا جواب دینے کے لئے منظم منصوبہ بندی کرنا

۲۔ بچوں اور جوانوں کی دینی تربیت کے لئے مساعی جمیلہ کو بروئے کار لانا اور اس سلسلہ میں کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں سے تعاون اور اشتراک عمل کرنا ۔

۳۔ حضرت سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی حقیقی عزاداری کے فروغ کے لئے بھر پور کوشش کرنا ۔

۴۔ نظامِ ولایت و مرجعیت کی حمایت کرنا

۵۔علمائے کرام میں اتحاد و وحدت کے لئے موثر روابط کا قیام اور ان کی مقامی مشکلات کا ممکنہ وسائل کے ذریعہ حل تلاش کرنا۔

۶۔ مبلغین کی تربیت اور معاونت۔

۷۔ شیعہ اسلامی مراکز کی راہنمائی اور معاونت کرنا۔

۸۔ مؤمنین میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے اور اسے بر قراررکھنے کے اقدامات کرنا۔

۹۔ اتحاد بین المسلمین کے  لئےسعی و کوشش کرنا۔

۱۰۔ اسلامی تنظیموں اور تحریکوں کے ساتھ تعاون اور امت مسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کے توڑ کے لئے ممکنہ اقدام کرنا۔

۱۱۔ مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان امن و آشتی اور مشترکات میں ہماہنگی پیدا کرنا۔

۱۲۔ غیر شیعہ افراد کو مکتب اہلبیت ؑ کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لئے عملی اقدامات کرنا۔

بنیادی انتظامی ڈھانچہ

رُکنیت :   دستور کی دفعہ ۵ میں درج شرائظ کا حامل ، برطانیہ اور یورپ میں آباد،عالم دین  مجلس علماء کا ممبر بن سکتا ہے۔

جنرل کونسل : جنرل کونسل ، مجلس کا اعلی اختیاراتی اور پالیسی ساز ادارہ  ہے اور  مجلس علمائے شیعہ یورپ کی بنیادی رکنیت رکھنے والا ہر عالم دین جنرل کونسل کا رکن ہو گا۔

صدر  :  مجلس علماء کا سربراہ ہو تا ہے جسے جنرل کونسل دو سال کی مدت کے لئے منتخب کرتی ہے۔

مرکزی کابینہ: نائب صدر اور سیکٹریز  پر مشتمل کابینہ کو  نامزد کرنے کا اختیار صدر کے پاس ہے البتہ جنرل کونسل کی توثیق بھی ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن :  مجلس علما ء کے انتخاباتی امور کو نبھانے کے لئے ایک تین رُکنی کمیش ہوتا ہے جن میں سے ایک الیکشن کمیشنر اور  دو  اس کے  معاونین ہوتے ہیں ۔